اسلام آباد کس کا شہر ہے؟

نئے بننے والے سینٹورس نے اسلامآباد میں پہلے ہی کافی کھلبلی مچائی ہوئی ہے ۔۔۔ بی بی سی کے رپورٹر نے سینٹورس کے رہائیشی کمرے اور فلیٹس کی بےتحاشا قیمت اور اس پہ سوا بڑھتی ہوئی بکنگ پہ بڑا اچھا تجزیہ پیش کیا ہے ۔۔۔ میں یہاں نقل کررہی ہوں(یحیٰی صاحب کا شکریہ جنہوں نے یہ لنک پوسٹ کیا)

پاکستان کے دارالحکومت میں مکانوں کے کرائے پاکستانی کرنسی میں نہیں بلکہ ڈالروں میں وصول کیے جاتے ہیں۔شہر میں پرتعیش اپارٹمنٹ یا پینٹ ہاؤس تعمیر ہو رہے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت سولہ کروڑ ہے۔

دارالخلافہ کی سڑکوں پر بڑی بڑی کاریں دوڑ رہی ہیں۔سڑکوں کو چار رویہ سے چھ رویہ بنایا جارہا ہے لیکن عام شہری کے سفر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے۔

شہر کے ایف نائن سیکٹر میں پینٹ ہاؤس کی تعمیر ہو رہی ہے جن کی قیمت سولہ کروڑ فی پینٹ ہاؤس ہے اور لوگوں نے بک کروانےشروع کردیئے ہیں۔ اس کمپلکس میں سیون اسٹار ہوٹل بھی واقع ہوگا۔ تعمیر شروع ہے۔ پیسہ متحدہ عرب امارات سے آرہا ہے۔

مارگلہ کے دامن میں واقع اس شہر میں شہر سے پچیس تیس کلومیٹر دور دیہات میں غریبوں کے ہمدرد سیاستدانوں نے دو سے چھ ایکڑ پر پھیلے فارم ہاؤس بنا لیے ہیں جن کی قیمت چھ کروڑ سے شرو ع ہوتی ہے۔

راول ڈیم کے ارد گرد واقع چک شہزاد، بنی گالہ، علی پور فراش اور پنج گراں کے علاقہ سی ڈی اے کے ماسٹر پلان میں اس لیے رکھا گیا تھا کہ وہاں سبزیاں کاشت کی جائیں گی تاکہ دارالخلافہ کے شہریوں کو مناسب دام پر سبزیاں مل سکیں۔
اسلام آباد میں ایک اپارٹمنٹ کی قیمت سولہ کروڑ ہے۔

تاہم ان علاقوں پر اب جنرل پرویز مشرف، عمران خان، ناہید خان، عبدالقدیر خان اور ملک کے نامی گرامی قائدین کرام ایکڑوں پر پھیلے ہوئے فارم ہاؤس بنا چکے ہیں۔ عمران خان کا فارم ہاؤس دو سو کنال پر پھیلا ہوا ہے۔

رہی ہی کسر پراپرٹی مافیا نے پوری کردی اور ان دیہاتوں کو پلاٹوں میں تقیسم کرکے بیچ دیا۔ اسلام آباد کی مقامی حکومت (سی ڈی اے) نے یہ سب کچھ ہونے دیا۔اس کی اجازت کے بغیر نہ کسی زمین کی رجسٹری ہوسکتی ہے اور نہ مکان کی تعمیر۔

دارالحکومت ہونے کے ناطے شہر کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ رقبہ محدود ہے۔ایک طرف مارگلہ کی پہاڑیاں اور ان کے پرے صوبہ سرحد کا علاقہ ہے۔ دوسری طرف راولپنڈی اور پنجاب کا علاقہ۔

شہر کے ایک طرف کچھ زمین موجود ہے جہاں حکومت زون چار اور پانچ بنا کر نئے رہائشی علاقے بنا سکتی تھی تاکہ لوگوں کو مناسب قیمت پر مکان مل سکیں۔ تاہم ایسا نہیں کیاگیا۔

یوں میدان پراپرٹی ڈیلروں اور ڈیویلیپروں کے لیے خالی چھوڑ دیاگیا ہے جو کروڑوں سے اربوں پتی بن گئے ہیں۔ کئی پراپرٹی ڈیلر اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے روزنامے (اخبارات) نکالے ہوئے ہیں۔

دارالحکومت سے نکلنے والے ان کم اشاعت کے متعدد اخباروں کو بہت کم اشتہارات ملتے ہیں لیکن پراپرٹی ڈیلر کے لیے کروڑوں روپے سالانہ کا یہ نقصان برداشت کررہے ہیں۔ظاہر ہے وہ یہ نقصان کہیں سے پورا کرلیتے ہیں اور انہیں ان سے کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔

ازراہ مذاق اسلام آباد کے ای سیکٹر کو ایلیٹ اور ایف سیکٹر کو فیوڈل کہاجاتا ہے کیونکہ اس سیکٹروں میں صرف وہ لوگ رہ سکتے ہیں جن کی آمدن لاکھوں روپے ماہانہ ہو۔ ان سیکٹروں میں مکانوں کے کرائے ایک لاکھ روپے ماہانہ سے شروع ہوکر پانچ چھ لاکھ اور اس سے بھی زیادہ ہیں۔

حیرت یہ ہے کہ نہ تو سرکاری افسروں کی تنخواہ ہزاروں میں ہوتی ہے اور بڑی کاروباری کمپنیوں کے بڑے افسروں کی تنخواہیں بھی عام طور سے ایک ڈیڑھ لاکھ ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوتی تو وہ کون لوگ ہیں جو یہ مکان کرائے پر لیتے ہیں؟

جواب ملا کہ یہ مکانات کرائے پر لینے والوں میں غیرملکی این جو اوز، سفارت کار اور وہ لوگ شامل ہیں جو سرکاری سرپرستی سے دھڑا دھڑ مال بنا رہے ہیں۔ ہر حکومت اپنی سیاسی بنیاد بنانے کے لیے سرکاری نوازشات سے اپنے حمایتیوں کا نیاگروہ تشکیل دیتی ہے۔

حکومت سے وابستہ سول اور فوج کے اعلیٰ افسروں اور سابق گورنروں نے اپنے کنالوں پر پھیلے ہوئے مکانوں کو غیر قانونی طور پر گیسٹ ہاؤس بنا دیا ہے۔ ان میں سے کچھ پر کوئی بورڈ نہیں، ان پر ہوٹل اور ریسٹورنٹ والے کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتے اور آمدن کروڑوں روپے کی ہے۔

اخباروں میں مکانوں کے جو اشتہار آتے ہیں ان میں ان کی قیمت دو کروڑ اور تین کروڑ لکھی ہوتی ہے۔ آئے دن مکانات کی خرید و فروخت ہوتی ہے لیکن سی ڈی اے کے ریکارڈ میں کسی مکان کی فروخت پچاس لاکھ روپے سے زیادہ میں نہیں ہوتی تاکہ حکومت کو ٹیکس نہ دینا پڑے۔

مارگلہ کی پہاڑیاں اسلام آباد کا حسن سمجھی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایسی تعمیر ممنوع تھی جس سے ان پہاڑیوں کا منظر چھپ جائے۔

اب عدالت عظمی اور فوج سمیت متعدد سرکاری محکموں کے افسروں کے لیے ایسے کثیر منزلہ فلیٹ مارگلہ کے سامنے بنا دیئے گئے ہیں جن سے ان پہاڑیوں کا منظر چھپا جارہا ہے۔

ان دنوں اسلام آباد میں جگہ جگہ سڑکوں کو مزید چوڑا کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے اور سبزہ کے قطعات (گرین بیلٹوں) کو ختم کیا جارہا ہے حالانکہ یہ سڑکیں لاہور اور دوسرے پاکستانی شہروں کی سڑکوں کے مقابلہ میں پہلے ہی خاصی کشادہ ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گاڑیوں کا ہجوم اتنا بڑھ گیا ہے کہ سڑکوں کو چوڑا کیے بغیر ٹریفک ہموار رکھنا ممکن نہیں۔ شہر کی آبادی چند لاکھ سے بڑھ کر دس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

جو بات نہیں بتائی جاتی کہ پاکستان کے دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر روز تقریبا ڈھائی لاکھ لوگ راولپنڈی سے اسلام آباد کام پر آتے ہیں۔

غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ نجی ویگنوں اور بسوں میں مرغا بن کر سفر کرتے ہیں۔حکومت کے پاس سڑکوں کو کشادہ کرنے کے لیے کروڑوں روپے ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کے لیے پیسے نہیں۔

اسی طرح حکومت کے پاس اربوں روپے سے فوج کے مرکز جی ایچ کیو کی نئی عمارت بنانے کے لیے وسائل ہیں لیکن عام شہریوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے زون چار اور پانچ کی ترقی دینے کے لیے بجٹ نہیں۔

7 Comments so far

  1. 1967 (unregistered) on October 3rd, 2006 @ 3:36 pm

    I saw a character on television stating that the Margalla hills should also be converted into residental blocks. I just hope that does not happen because it would be a disaster. However if you look at the city design in a map you would see that there is no room for expansion on either sides either on the north or the south, so eventually you end up in a fairly skewed, and elongated Islamabad for future generations.

    However I would just like to comment on one issue. Sectors E and F only look better than the rest because the residents make an effort to keep them neat and tidy. I won’t go into the details of how, but it seems other sectors can also follow suite if they were a little more concerned about their surroundings, for example by dumpig less garbage on roadsides, avoiding spilling water on roads while washing their vehicles, and taking care of broken glass, bricks and rubble after the contruction work has been completed.

    The other day I was having a debate with a friend on exactly the same topic about the cost of imporving the quality of life and the affect it has on social psychology. Funny thing is most of us think that worrying about a better quality of life is just a waste of time. Although on the contrary I beleive it can be achieved without much cost.


  2. Yahya (unregistered) on October 3rd, 2006 @ 5:45 pm

    I wonder what current inhabitants of Islamabad think about this?


  3. Asma (unregistered) on October 4th, 2006 @ 4:49 pm

    1967 Well I agree with you a bit … but not entirely … Maybe it’s true that ppl living in E or F take good care of their surroundings … but ther’s another point to it … those sectors are old … they are fully done … no new thing going on …. OK forget Centaurus for few moments :) …. while inrest of G or I sectors … constructions and all that is taking place and is on high rate these dates … Certain places in these sectors are still so calm .. peaceful and clean … as few roads around G-8 … G-9 and G-10 green belts and roads around them … but yes it’s tehpeople residing there who can keep the place clean … livable and lovable …!

    I hope no Kamran Lashari or CDA saw that character on tv with you … hopefulllllyyy ..!

    Yahya They are thinking on similartones too .. people like me are very very angry on the fast finishing Green Belts … and most ofthe property inIslamabad is now being purchased by people residing in London or UK … so that’s causing this huge price hiking too ….!


  4. ghalia (unregistered) on October 5th, 2006 @ 12:08 am

    yes asma i totally agree with u. poeple in islamabad are just busy in making money and properties. no one is concerned about the enviornment.life is not all about making money. CDA and hotshots are just sitting idoly and doing corruption. i know a man who was working at a secretarai llevel in government( now retired). his grad was 22 and he has a three story house in I-8. how can a government servent is earning this much? the house is on rent and he did not tell the tax office that its rented because if he do, he has to pay tax and thats what he donot want. he is not the one, there must be alot of people like him.

    we should think as a good citizens of islamabad.it is the only city, i think, which is greener and beautiful and has its own dignity.we cannot afford to lose it.

    i dono how to stop CDA and the Government for eating up our city.


  5. 1967 (unregistered) on October 5th, 2006 @ 10:23 am

    Actually you cannot stop people from buying land whether they come from US or UK. It’s their right, and it’s a free country. The roads that you see being expanded is due to “population” increase. Both in terms of cars and people. And in the absence of a mass transit system, this is inevitible. Now either we convince people to buy less cars, and travel on foot or on cycles, or we expand the road network. But you are right, the expansion has to be according to some plan, conserving the natural assets as much as possible. However “natural assets”, to everyone might be a different meaning…

    In developed countries, the city authorities AND the coummunities make a point of giving a certain look and feel to their town and housing socieities. It has imense effect on disposition of residents, as they feel happy, relaxed and rejoiced when they come back to their homes. That’s why you see the streets so neat and clean in the movies, and the houses perfectly lined up. For example the width of the roads, area of the lawn, counstruction area, even the construction type; matters. You cannot rent out your garrage to someone by converting it into a room, or cannot do additional construction against the rules. Some of the private housing socities also enforce such laws here in Pakistan but that’s only on a limited level. However it is non existent on a city level, even for a city like Islamabad.

    Now let’s come to an average Joe, les say the retired officer as Ghaliya pointed out. Firstly, I doubt he even knows the importance of asthetics or ergnonomics. All he would be concerned about is minting rent. Here the authorities come into play, which are non existent, and the judicial systems are so weak that you cannot bring these folks to the task. So now the responsibility falls on the community. People like you and I, should object, report and discourage such transgression, atleast to make life a pain and miserable for these people. Reason, they are destroying our coummunity on their expense, and they have no right to do so. As tax paying citizens we have every right to atleast show our discourse to such individuals. But the funny thing is most people do not object because they do not consider it wrong, and think it’s OK. As they might have to do the exact same thing next year. So it’s a viscous circle.

    Asma, some construction work is going on in these sectors as well, limited yes, but it’s there. Then you find the same old crap, cement on road, dust flying all in the street, a mess all around. It’s looks like a scene from junkyard. But let me tell you this. The guy right next to my house was doing some renovations to his. He was polishing his chips floor and the mason was dumping all the waste on road. Result, the whole road was while with chips sloth and whoever walked or drove on it took white rubbles into their homes. I myself could not undertand the reason for all the white marks on my carpet for the first day. Later when I realised that, I actually walked up to that person and registered my protest. I also took some of other of my neighbours and after a little bit of convincing, we made sure that guy made appropriate arrangements to dump all his waste. And you would be surprized it just took him five minutes to manage all that with a jurry rigged solution that did not cost much either. But the damage that he was doing to the community and environment was irreversible.


  6. Asma (unregistered) on October 5th, 2006 @ 11:52 am

    Ghalia Hmmm … I guess 22 grad govt servant’s quite a good grade … one of teh top grades any govt officer reaches …. actually in I-8 many employees of CDA and even otherfederal governmental offices were alloted plots … so maybe he’s one of them … Though overall we are quite enriched with corruption on any scale … so who knows …!

    I agree to rest of the things …. !

    1967 Hmmm … well you are absolutely rite and yup dumping waste on roads is another truth … but just yesterday I was discussing this with my father … and he was telling that no matter how much dump is there … as you know during construction alot is created on daily basis the suzuki or whatever takes some Rs. 400-500 for picking that up and dumping …. so everything have other sides too …. which the constructor may be thinking upon … while as a contrast in Lahore since donkey carts are available thattak e Rs 50-80 and your work’s all done … all trash disposed offf!


  7. 1967 (unregistered) on October 5th, 2006 @ 11:35 pm

    A person who can afford a house of 10 million or more can definitely afford a few truck loads of rubble.

    I believe we need to realise the benefits of “Collective intelligence”, and “Collaborative filtering” here first. The Japenese use it very efficently. And it is only when we create a win win situation for every one; we would be able to address some of the core issues.



Terms of use | Privacy Policy | Content: Creative Commons | Site and Design © 2009 | Metroblogging ® and Metblogs ® are registered trademarks of Bode Media, Inc.